دجلہ خوں کشمیر
ستم و جور وہی
رگ جاں بھی وہی نشتر بھی وہی
دست اغیار میں خنجر بھی وہی
دیکھتا ہوں کہ مرے شہر کے بازاروں میں
قلزم کفر سے امڈی ہوئی ہے اک موج فنا
اسی انداز سے پھر ابھری… مزید پڑھیے
تُجھے پُکارا ہے بے ارادہ
جو دل دُکھا ہے بہت زیادہ
نَدیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عَطا کرو اِک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کر لیں لبادہ
نہ جانے کس دن سے منتظِر ہے
دلِ… مزید پڑھیے