نجات کا ذریعہ
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی سے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ، صاحبِ معطر پسینہ ، باعثِ نزول سکینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
من صَمَتَ نَجَا : ” جو خاموش رہا نجات پا گیا”
( جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ ، الحدیث 2509 ، ج 4 ، ص 225 )
اس فرمان کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس نے خاموشی اختیار کی وہ دونوں جہاں کی بلاوں سے محفوظ رہا۔
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی علیہ رحمۃ الوالی فرماتے ہیں : کلام چار قسم کے ہیں ، ( ایک ) خالص نقصان دہ ، ( دوسرا ) خالص مفید ، ( تیسرا ) نقصان دہ بھی اور مفید بھی ، ( چوتھا ) نہ نقصان دہ اور نہ مفید۔
خالص نقصان دہ سے ہمیشہ پرہیز ضروری ہے۔ خالص مفید کلام ضرور کرے۔ جو کلام نقصان دہ بھی ہو اور مفید بھی اس کے بولنے میں احتیاط کرے ، بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وقت ضائع کرنا ہے۔ ان کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہذا خاموشی بہتر ہے۔
( مراۃ المناجیح ، ج 2 ، ص 424 )
صلوا علی الحبیب ! صلی اللہ تعالی علی محمد
از ” 40 فرامین مصطفے ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ” ، پیش کش : شعبہ اصلاحی کتب دعوت اسلامی ، ناشر: مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی

جنوری ۲۴ ، ۲۰۱۰ بوقت ۹:۱۷ شام
اس کی مزید کی ضرورت ہے
جنوری ۲۴ ، ۲۰۱۰ بوقت ۹:۴۶ شام
اتنی فا ئدہ مند حدیث بمعہ تشریح شا ئع کرنے کا بہت شکریہ
جنوری ۲۶ ، ۲۰۱۰ بوقت ۹:۱۳ شام
سبحان اللہ۔
تبصرہ کیجیے