یہ آیتیں ہیں
از: الف نظامی
یہ آیتیں ہیں
صفی حسن ( برمنگھم )
یہ آیتیں ہیں
یہ سر جھکانے کی ساعتیں ہیں
جو گاہے گاہے شعورِ انساں کو خوابِ غفلت کی
بے حسی سے نکالتی ہیں
کہ وہ سمجھ لے
زمیں کا نرم و گداز بستر
اور اُس پہ مخمل کی سبز چادر
گلوں کے دفتر
حسیں پرندوں کے میٹھے نغمے
برستے بادل کی آبشاریں
اداس موسم کی سانولی میں
نظر بدلتی ہوئی بہاریں
اور ان کا پھیلا ہوا اثاثہ
فسوں ہے سوچوں کے چند لمحوں کی تازگی کا
ہر ایک ساعت کسی کے چشمِ کرم سے روشن ہے
ورنہ اک آگ کا سمندر
ہمارے قدموں کی آہٹوں سے اُبل پڑے گا
زمیں کے عرشے کی تھرتھراہٹ
پہاڑ قامت بلندیوں کو غبار کر کے
کھلی فضاوں کی وحشتوں میں بکھیر دے گی
تو موج در موج آب و گل کا عمیق لشکر
جو زندگی تھا
وہ موت بن کر سفر کرے گا
نہ میں رہوں گا نہ تو رہے
ہوا جو کل تک گلوں سے خوشبو کشید کر کے
مچل رہی تھی
وہ سر کشی میں سمندروں کو پچھاڑ دے گی
زمیں کی میخیں اکھاڑ دے گی
کہ یہ ابھی فیصلے کی گھڑی نہیں ہے
یہ صرف ہلکا سا اک اشارہ ہے
اس سمے کا جو اپنے ہونے کا معترف ہے
اور اہل دنیا پہ منکشف ہے
کہ اس گھڑی سرکشوں کو راہِ مفر نہ ہوگی
فلک پہ سورج عیاں تو ہوگا
مگر کہیں بھی سحر نہ ہوگی
زمیں کے زخموں کا سرخ لاوا
ہر ایک تن کا لباس ہوگا
کسی کی آنکھوں میں خوفِ صحرا
کسی کا چہرہ اُداس ہوگا
ذرا بصیرت کے آئینے میں نظر کریں تو پتہ چلے گا
ہمارے چاروں طرف زمیں پر
خدا کی کتنی رعایتیں ہیں
یہ سرجھکانے کی ساعتیں ہیں
یہ آیتیں ہیں
ماہنامہ ” کتاب ” نیشنل بک فاونڈیشن مئی ، جون 2007

یہ پوری کائنات اللہ کی آیتوں سے بھری پڑی ہے صرف چشمِ بِینا چاہیئے