اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی

اسلامیہ ہائی سکول (مری روڈ) قیام پاکستان تک راولپنڈی میں مسلمانوں کا واحد ہائی سکول تھا۔ اسے انجمن اسلامیہ (رجسٹرڈ) راولپنڈی نے 1896ءمیں کرائے کی عمارت میں قائم کیا۔ سیٹھ ماموں جی نے عمارت کے لیے چار ہزار روپے دیے۔ 1899ءمیں یہ عمارت مکمل ہوئی اور سکول اس عمارت میں آگیا۔ یہ وہی عمارت تھی جہاں اب گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول شاہراہ لیاقت قائم ہے۔ اس عطیے کی وجہ سے سکول کا نام ’ماموں جی ہائی سکول‘ رکھا گیا۔

وہ عمارت جس میں موجودہ گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول شاہراہ مری ہے 1914ءمیں پائے تکمیل کو پہنچی۔ اس میں ہوسٹل بنا اور یہاں ماموں جی اسلامیہ ہائی سکول کی پانچویں اور چھٹی جماعتیں اٹھ ّآئیں۔ 1931ءمیں ہوسٹل ختم کردیا گیا اور شاہراہ لیاقت والی عمارت ڈویژنل انسپیکٹر آف سکولز کو کرایہ پر دیدی اور تمام جماعتیں مری روڈ والے سکول میں آگں ا۔ 1940ءمیں سکول کے نام سے ماموں جی حذف کردیا گیا۔

اس سکول نے تحریک حصول پاکستان کے لیے محدود پیمانہ پر ویسا ہی کام کیا جیسا صوبائی سطح پر اسلامیہ کالج لاہور یا اسلامیہ کالج پشاور اور ملکی سطح پر علی گڑھ یونیورسٹی نے کیا۔ 1936ءمیں یہاں قائداعظم نے ایک اجلاس سے خطاب کیا۔

26فروری 1941ءکو یہاں نواب بہادر یار جنگ ، قاضی محمد عیسیٰ ، مولانا عبدالحامد بدایونی اور مولانا کرم علی فرخ آبادی پر مشتمل مسلم لیگی وفد نے دس ہزار کے مجمع سے خطاب کیا۔

7 ، 8 مارچ 1942ءکو یہاں پنجا ب مسلم لیگ سٹوڈنٹس فیڈریشن کا دوسرا سالانہ اجلاس ہوا جس میں حاضرین کی تعداد پچیس ہزار سے متجاوز تھی۔

42ء ، 43ء ، 44ءمیں یہاں یوم پاکستان کے سلسلے میں جلس ہائے عام ہوئے اور جون 1944ءمیں یہاں راولپنڈی ڈسٹرکٹ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی کانفرنس میں آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عمل کے معزز ارکان نے تقریر کیں۔

بحوالہ : قائد اعظم اور راولپنڈی از منظور الحق صدیقی
ناشر:
قومی ادارہ تحقیق و تاریخ و ثقافت ، اسلام آباد
طبع اول : 1983 ء

ووشو کنگفو

چین کے اس مشہور فن کو پوری دنیا میں مارشل آرٹس کے سب سے اعلی ترین خطرناک فن کا اعزاز حاصل ہے اور یہ پوری دنیا میں بے حد مقبول ہے۔پاکستان کے قومی کھیلوں میں ووشو کنگفو بطور آفیشل رجسٹرڈ ہے اور یہ پاکستان بھر میں نوجوانوں کا پسندیدہ کھیل ہے۔
ووشو کنگفو تقریبا پانچ ہزار سال پرانا ہے۔ سن 1912 ء میں جمہوریہ چین کے قیام کے چند سال بعد سرکاری  طور پر ووشو کا نام بدل کر “کاوشو” رکھ دیا گیا۔ مگر بعد میں دوبارہ ووشو سے بدل دیا گیا۔ووشو کنگفو کو جدید طریقے سے روشناس کرانے کا سہرا “ووشو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بیجنگ” کے سر ہے۔
ووشو کا مطلب ہے فوجی اور جنگی آرٹ کی تربیت کو مہارت سے حاصل کرنا۔
ووشو کنگفو میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ایک طویل مدت درکار ہوتی ہے اور خاص طور پر سی فو (ماسٹر) بننے کے لئے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے وہ اس قدر اعلی درجہ کی لیاقت اور پختگی کا مطالبہ کرتا ہے جو کہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ برسوں کی طویل اور سخت ریاضت کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس اور قربانیوں سے گزر کر ہی سی فو کے درجہ پر پہنچا جا سکتا ہے۔

ووشو کنگفو خودحفاظتی کا ایک اعلی ترین طریقہ کار ہے مگر یہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اس میں شامل پپنچنگ ، ککنگ اور بریکنگ کے پیچھے ایک فلسفہ ہے ، نظریہ حیات ہے جس کی جڑیں کم و بیش 5000 برس تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ووشو کنگفو کے فروغ کے لئے 1987ء میں انٹرنیشنل ووشو فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا ہیڈ کواٹر چین میں ہے۔ ووشو کنگفو کی پہلی عالمی چمپئن شپ 1991 ء میں چین میں منعقد ہوئی جس میں 32 ممالک کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ چین میں سکولوں اور کالجوں کی سطح پر طلبہ و طالبات کو ووشو کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں ادارے اور ایسوسی ایشنز کنگفو کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ان سب اداروں میں سب سے اونچا مقام شاولین ٹیمپل کا ہے۔
پاکستان میں ووشو کنگفو کے فروغ کے لئے 1992ء میں پاکستان ووشو فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت پورے پاکستان میں سینکڑوں کلب اور بے شمار ایسوسی ایشنیں ووشو کنگفو کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی انسٹرکٹر اور گرینڈ ماسٹرز بالخصوص گرینڈ ماسٹر ملک افتخار احمد اور گرینڈ ماسٹر ذوالفقار علی زلفی ووشو کے فروغ کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ پاکستان میں ووشو کنگفو کا مستقبل نہایت اچھا اور تابناک ہے۔
تحریر : ماسٹر رانا محمد سرور
ماہنامہ پھول نومبر 2011

پاکستان کے سیاسی حالات

سوال: پاکستان کے سیاسی حالات آنے والے دنوں میں کس حد تک تبدیل ہوں گے؟
جواب:
جب ترکی کی جنگ ہو رہی تھی اور ترکی مردِ بیمار تھا اور ہر طرف سے اس پر افواج چڑھی ہوئی تھیں تو جنرل van sandars ترکی کی افواج کا جنرل تھا ۔ اس نے کہا کہ
I can no longer defend Turkey
میں ترکی کی مزید حفاظت نہیں کر سکتا ، میں جا رہا ہوں۔
خلیفہ عبد الحمید نے کہا تُو تو جا رہا ہے مگر میں پیچھے سے کس کو قیادت دوں تو اس نے کہا کہ مصطفے کمال کو لے آو شاید وہ ترکی کو بچا لے۔ وہ اسے لے آیا اور اس نے اس وقت کے فاتحینِ عالم کو بری طرح شکستیں دیں ، مگر اس کے بعد جو کچھ اس نے ترکی کے ساتھ کیا وہ کوئی قابل عزت کام نہیں تھا۔ اس نے اس عزت کے بدلے ترکی کا رخ بدلا، اسے محکوم و مجبور قوم بنا دیا۔ اس نے اس کی دینی روایات چھیننے کی کوشش کی ، اسے ایک فضول قسم کے سیکولر ماحول میں لے گیا۔ بات یہ ہے کہ قوموں کو شعور ہونا چاہیے کہ انہیں کب لیڈر بدلنا ہے۔ جنگِ عظیم شروع ہوئی اور انگلینڈ کے وزیرِ اعظم کو یہ سمجھ کر کہ یہ نرم دل ہے، جنگ کے حالات کے لئے موزوں نہیں رہے گا ، ہٹا کر چرچل کو وزیراعظم بنا دیا گیا اور چرچل نے وہ جنگ جیت لی۔ آپ ان کو کیوں الزام دیتے ہو جو اوپر بیٹھے ہیں؟ آپ اپنے آپ کو الزام کیوں نہیں دیتے۔ ایک مجموعی ملی فراست کھو گَئی ہے۔ ہماری ذہانتیں مردہ پڑی ہیں۔ ہم میں عقل نہیں رہی۔ جب ہم میں ہی عقل نہیں رہی ، ہمارے چناو غلط ہوگئے ہیں ، جب ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے انتخاب کی اہلیتیں تبدیل نہیں کرتے ، اپنی شعوری اہلیتیں تبدیل نہیں کرتے ۔ ہم اگر اپنی برادریوں کی خاطر جان بوجھ کر ظالموں کا ساتھ دیتے ہیں تو پھر ملک کا یہی حال ہوگا۔ اس لئے اصولا پاکستانیوں کو گلہ نہیں کرنا چاہیے

کتاب“سلطانِ نصیر” از پروفیسر احمد رفیق اختر سے لیا گیا متن

مصورِ قائد : آفتاب ظفر


قائد اعظم اور تحریک پاکستان کی شاہ کار تصویریں بنانے والے آفتاب ظفر نے لائن ورک اور رنگوں کے حسین امتزاج سے تاریخِ اسلام ، تحریک پاکستان اور قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تصاویر کو نئی زندگی  اور انہیں شاہکار بنا دیا۔
آفتاب ظفر انڈیا کے شہر گرداسپور میں 8 اپریل 1937ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پہلی تصویر ڈھائی سال کی عمر میں بنائی جبکہ تحریک پاکستان کے حوالے سے پہلی تصویر 1947ء میں گرداسپور میں مسلم لیگ کے جلوس کی بنائی۔
آفتاب ظفر آٹھ سال کی عمر میں گرداسپور سے ہجرت کر کے رسالپور آئے اور پھر وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد لاہور آگئے۔
1948 ء میں آفتاب ظفر کے والد نے ان کی بنائی ہوئی تصاویر اور خطاطی کے نمونے قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کو بھجوائے تو قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے جوابی خط میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا :
“مجھے یقین ہے کہ یہ بچہ آگے چل کر بڑا آرٹسٹ بنے گا”
آفتاب ظفر نے تاریخِ اسلام ، تحریک پاکستان کے حوالے سے مصوری کو نئی جہت دی۔ آفتاب ظفر پاکستان آرٹ انسٹی ٹیوٹ اور پاکستان فائن آرٹ سوسائٹی کراچی کے بانی ہیں۔
اپنے بچپن کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں کے کہا کہ مجھے بچپن میں کسی قسم کے کھیل اور دوسری سرگرمیوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مجھے تصویر ، رنگ اور ڈرائنگ میں دلچسپی تھی جبکہ میں نے دیوار پر پہلی دفعہ آسمان اور ستارے بنائے تو میرے والد نے میرے اس کام کو سراہا جس سے مجھے کافی حوصلہ افزائی ہوئی۔ آفتاب ظفر نے لاہور آنے کے بعد میو سکول سے ڈرائنگ کا امتحان پاس کیا۔ 1948ء میں رسالپور میں پہلی دفعہ آفتاب ظفر کی تصاویر کی نمائش ہوئی۔ آفتاب ظفر اپنی کامیابیوں میں اپنے ابتدائی دور کے استاد شیخ احمد کا بہت بڑا حصہ مانتے ہیں۔ شیخ احمد میو سکول میں پڑھانے سے پہلے لندن میں ڈرائنگ کی تعلیم دیتے تھے۔ 1952ء مین آفتاب ظفر نے تیرہ سال  کی عمر میں فائن آرٹ میں گرایجوایشن کی اور کراچی چلے گئے۔ 1966ء میں حبیب بینک کی سلور جوبلی تھی اور بینک کو اس سلسلہ میں ایسے آرٹسٹ کی ضرورت تھی جو بینک کی سلور جوبلی کے سلسلے میں کئے جانے والے کام کو یادگار بنا دے۔ چناچہ آفتاب ظفر کو ان کے ساتھ کام کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا تو انہوں نے اپنے ہنر کا برملا اظہار یوں کیا کہ یہ کام نہ صرف ان کی پہچان بن گیا بلکہ انہوں نے رنگوں سے اپنی تصاویر کو نئی جہت دی۔
مالی طور پر مستحکم ہونے کے بعد آفتاب ظفر نے اپنی کوئی تصویر فروخت نہیں کی بلکہ آیندہ نسل کو تاریخ اسلام اور تحریک پاکستان سے روشناس کروانے کے لئے ایک میوزم بنا دیا۔ ان کی زندگی کا مقصد یہی ہے کہ تصاویر کے ذریعے اسلام ، قرآن اور تحریک پاکستان کو اجاگر کیا جائے کیونکہ لفظوں کے مقابلے میں تصویر کئی گنا زیادہ اثر مرتب کرتی ہے۔
آفتاب ظفر اپنی زندگی کا بہترین لمحہ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کے اس جواب کو کہتے ہیں جب قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اُن کی تصاویر کے جواب میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔
آفتاب ظفر آج کل پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس کراچی کے پرنسپل ہیں اور پاکستان کے مستقبل کو رنگوں کے ذریعے حب الوطنی کی تعلیم دے رہے ہیں۔
ماہنامہ پھول دسمبر 2011

تذکرہ حسین شہزادہ کونین علیہ السلام

تذکرہ حسین شہزادہ کونین علیہ السلام
للتقسیم والتوزیع فی سبیل اللہ
لانتفاع و النفع
لجمیع امۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
لمرضات اللہ تعالی و رسولہ الکریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ آمین

مولفہ: صاحبزادی انیس اختر سلمہا اللہ بنت حضرت محمد برکت علی لدھیانوی قدس سرہ العزیز

باکمال و لازوال و اکمل و کامل حسین

عزمِ انسانی کی تازہ وارداتِ دل حسین
معنی ذبحِ عظیمی ، عظمتِ کامل حسین

رشتہ قرب و مدارج ہائے اعلی کے امام
جذبہ قربانی اسلام کے حامل حسین

عشق و نورِ مصطفی کی زندہ تابانی شہید
لائق صد آفرین و فخر کے قابل حسین

بُزِ ابراہیم ، بقرِ موسی ، شترِ مصطفی
ارتقائے روحِ انسانی کی ہیں منزل حسین

لی معلا قرب و قربانی ہیں انجامِ شہید
اہتمام حجتِ عشاق کے قابل حسین

نورِ حق کی خود میں تابانی کے شاہد ہیں شہید
زندہ جاوید کے انوار کی منزل حسین

خاطر ناموس امت ہر شہادت تھی عزیز
مصطفائی کے ہر اک انداز کے حامل حسین

اب حقیقت سب شہیدوں کی ہوئی منزل حسین
ہر شہادت میں جمیعت کی ہوئے شامل حسین

قربِ حق ہے اے ولی قربانی مثلِ حسین
باکمال و لازوال و اکمل و  کامل حسین

ولی الدین

قائد اعظم اور قرآن کریم کی تکریم

قائد اعظم مری پہنچے تو ہزاروں نے ان کا استقبال کیا۔ ایمبسیڈر ہال (یہ نام بعد میں پڑا۔ اس وقت اسے اسٹوریا ہال کہتے تھے ، 1976 ء میں یہی ٹاون ہال بنا دیا گیا ) میں جلسے کا انتظام تھا۔ قائد اعظم کے حضور میں پیش کرنے کے لیے مردوں اور عورتوں نے علیحدہ علیحدہ تھیلیاں رکھی ہوئی تھیں۔ بڑا ہی جوش و خروش تھا۔ ہندو اور سکھ دیکھ دیکھ کر ششدر و حیران تھے۔ قائد اعظم کی تقریر سے پہلے راقم الحروف (منظور الحق صدیقی ) کو منٹو صاحب نے تلاوت قرآن کریم کے لیے کہا۔ میں نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی تھی کہ محسوس ہوا کہ میرے دونوں کندھوں کے درمیان کسی کے ہاتھ ہیں۔ مڑ کر پیچھے دیکھا تو قائد اعظم ہیں۔ میرے بیٹھنے کو کرسی لگا کر ہدایت کر رہے ہیں کہ میں کرسی پر بیٹھ جاوں۔ قرآن کریم کی تکریم کے متعلق قائد اعظم کا عجیب حال تھا۔ وہ یہ بالکل پسند نہ فرماتے تھے کہ سب لوگ بیٹھے ہوں اور ایک قاری کھڑا ہو کر تلاوت کرے۔ ایک آدھ دفعہ ایسا بھی ہوا کہ تلاوت قرآن کے وقت قائد اعظم نے تمام مجمع کو کھڑا ہونے کا حکم دیا اور خود بھی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ مگر اس مرتبہ آپ نے قرآت کے لیے مجمع کو کھڑا کرنے کے بجائے قاری کو بیٹھ کر پڑھنے کو کہا۔
بحوالہ : قائد اعظم اور راولپنڈی از منظور الحق صدیقی ، صفحہ 58 – 59
ناشر:
قومی ادارہ تحقیق و تاریخ و ثقافت ، اسلام آباد
طبع اول : 1983 ء

اللہ اکبر

یہ شرک ہے کہ ہم امریکہ سے ڈریں۔

اوریا مقبول جان