اوراق

الف نظامی لِکھدا اے۔۔۔

جس دل میں جلوہ گر ہے محبت حضور کی

از: الف نظامی

جس دل میں جلوہ گر ہے محبت حضور کی
اُس دل پہ لاکھ بار ہو رحمت حضور کی

سرکار کا جمال خدا کا جمال ہے
آئینہ ء جمال ہے صورت حضور کی

صبحِ ازل کو جس نے پر انوار کر دیا
جلوہ حضور کا تھا وہ طلعت حضور کی

صدیق ہمرکاب تھے بستر پہ تھے علی
ہر طرح کیف بار تھی ہجرت حضور کی

رحمت ، رسولِ پاک ہیں کونین کے لئے
کونین کو محیط ہے رحمت حضور کی

اس ذاتِ بے مثال کو تشبیہ کس سے دوں
اک حُسنِ بے مثال ہے صورت حضور کی

لاکھوں درود آلِ رسولِ کریم پر
محشر میں بخشوائے گی عترت رسول کی

اے کاش میں بھی خواب میں دیکھوں حضور کو
اے کاش مجھ کو بھی ہو زیارت حضور کی

جب کوئی بھی نہ مونسِ جاں ہوگا حشر میں
ڈھونڈے گی عاصیوں کو شفاعت حضور کی

میرے لئے یہ کم شرف و افتخار ہے؟
بندہ خدا کا اور ہوں اُمت حضور کی

اے کار ساز! اپنے کرم سے مجھے نواز
اے کردگار! بخش محبت حضور کی

شیریں ہے میرے شاہ کا ہر ایک تذکرہ
رنگیں ہے ہر ایک حکایت حضور کی

جس میں خدا کی ذکر تھا جس میں خدا کی یاد
خلوت حضور کی تھی وہ جلوت حضور کی

ہے مظہرِ جمالِ خدا روضہ آپ کا
آئینہ دارِ حُسن ہے تربت حضور کی

اے ناشناسِ لذت سوز وگدازِ عشق
آ مجھ سے سن لذیذ حکایت حضور کی

امیدوارِ لطف و کرم پر بھی ہو کرم!
مشہور ہے جہاں میں سخاوت حضور کی

میری نوا کا سوز ، مرے زمزموں کا نور
بخشش حضور کی ہے ، عنایت حضور کی

اول تھا انبیا سے شہِ انبیا کا ذکر
آخر ہے مرسلیں سے رسالت حضور کی

شاہد ہے ان کے قول و عمل پر کلامِ حق
ثابت کلامِ حق سے ہے عصمت حضور کی

مظہر ہزار جان فدا ایسی موت پر
سنے ہیں مر کے ہوگی زیارت حضور کی

از حسان العصر حافظ مظہر الدین مظہر رحمۃ اللہ علیہ

محمودالحق at 20:14 on 25 February 2010
جس دل میں جلوہ گر ہے محبت حضور کی اُس دل پہ لاکھ بار ہو رحمت حضور کی جزاک اللہ خیرا
خرم at 23:08 on 1 March 2010
ماشاء اللہ۔

عالم اسلام کے اولین نعت خوان

از: الف نظامی

عالم اسلام کے اولین نعت خوان
راجا رشید محمود

اسلام کی بنیاد کلمہ توحید و رسالت ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
ہر مسلمان اللہ کریم کی وحدانیت اور اللہ تعالی کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت و خاتمیت پر ایمان رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا کی سب شخصیتوں سے زیادہ محبت میرے ساتھ نہیں رکھتا وہ مومن نہیں۔ یعنی ایمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت کے ساتھ مشروط ہے اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف و ثنا کی جائے اور دوسرا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکام پر عمل کیا جائے۔
قرآن مجید میں جگہ جگہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف ملتی ہے۔ اس لئے بہت سے لوگ اسے نعت کا پہلا مجموعہ قرار دیتے ہیں لیکن اگر نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شعری مدح کو کہا جائے تو بھی عالم اسلام کا کوئی خطہ ، کوئی ملک اور کوئی زبان ایسی نہیں جس میں شعر کی زبان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف نہ کی گئی ہو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس دنیا مین ظہور فرمانے سے کوئی ایک ہزار سال پہلے یمن کے بادشاہ تبع اول حمیری نے سب سے پہلے نعت کے اشعار کہے۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگوں میں سے حضرت کعب بن لوی ( حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت سے پانچ سو ساٹھ سال قبل ) کے نعتیہ اشعار ملتے ہیں۔
آپ کے دنیا میں تشریف لانے پر حضرت عبد المطلب نے اشعار کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی تعریف شعروں میں کی۔ اسی طرح خواتین میں پہلی نعت گو سیدہ آمنہ ہیں۔ ورقہ بن نوفل نے پہلا باقاعدہ نعتیہ قصیدہ کہا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے پر بنو نجار کی بچیوں نےسب سے پہلے نعتیہ اشعار پڑھے۔ سب سے پہلا غیر مسلم نعت گو اعبثی میمون بن قیس تھا۔ حضرت حسان بن ثابت ، حضرت کعب بن زہیر ، حضرت کعب بن مالک ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنھم ) عہد نبوی کے مشہور نعت گو صحابی تھے۔

حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ سے زیادہ نعتیہ قصیدے کہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی منظوم مدح کے “نعت” کا لفظ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے استعمال کیا۔

شاعر صحابہ کرام میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے مدح رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اشعار نہ کہے ہوں۔ حافظ ابن البر رضی اللہ تعالی عنہ نے 120 مداح گو صحابہ کے نام اور حافظ ابن سید الناس رحمۃ اللہ علیہ نے 200 نعت گو صحابہ کے نام لکھے ہیں۔
علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ نے چار ضخیم جلدوں میں عربی نعتوں کا انتخاب کیا تھا جن میں 34 صحابہ کرام کے 461 اشعار ہیں۔ عربی نعت کے اس انتخاب میں صحابہ کے علاوہ 24635 اشعار بعد کے شعراء ادب کے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ( فیصل آباد ) نے بر صضیر پاک و ہند کے عربی نعت گو شاعروں  پر پی ایچ ڈی کے لئے مقالہ لکھا جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور لاہور سے شائع ہوا۔ ممالک عرب میں دوسری دنیا کی طرح اب تک نعت گوئی جاری ہے۔

عالم اسلام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت کا سلسلہ 14 سو سال سے جاری ہے۔ موجود دور چونکہ مسلمانوں پر مصائب و ابتلا کی صورت لایا ہے اس لئے مسلمانوں کے حساس طبقے جسے شعرا کہا جتا ہے ، پہلے سے کہیں زیادہ نعت کہنا شروع کر دی ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہ عام طور ہر یہودیوں  اور عیسائیوں کے زیر اثر ہیں۔ امریکہ نے ان کے حواس سے لے کر ان کے ملکی وسائل تک پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اس لئے ہر ملک کے مسلمان عوام بے چینی  ، بے یقینی اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایسے میں شاعروں نے اپنے آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف و ثنا میں پناہ ڈھونڈی ہے اور ملت کی اجتماعی صورت حال کی فریاد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں کر رہے ہیں۔
ایران میں ضیا الدین دھشیری اور دوسرے محققین اور ادبا نے نعت گوئی اور نعت گو شاعروں کے تذکروں پر مشتمل وقیع کتابیں لکھی ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں نعت کے مختلف گوشوں پر کام ہو رہا ہے۔ مجموعہ ہائے نعت چھپ رہے ہیں ، مختلف موضوعات پر تحقیق ہورہی ہے ، محافل نعت کا انعقاد ہو رہا ہے ، نعتیہ مشاعرے جاری ہیں ، نعت خوانی کے مقابلے کرائے جا رہے ہیں۔ مختلف حوالوں سے نعت کے انتخاب شائع ہو رہے ہیں۔ نعت پر جریدے اور کتابی سلسلے جاری ہیں۔
عہد موجود نعت کا عہد ہے۔ آج دنیا کی ہر زبان میں نعت کہی جارہی ہے لیکن یہ سعادت مملکت خداداد پاکستان کو حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ نعت پاکستان میں کہی جا رہی ہے اور سب سے زبانوں سے زیادہ نعت اردو زبان میں کہی گئی ہے۔
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے امتیوں کے لئے جو علیحدہ مملکت حاصل کی تھی اس کے باشندے اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدحت و ستائش میں سبقت لے جانے کے لئے کوشاں ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ عالم اسلام کا سب سے حساس طبقہ شعرا اپنے رب کریم کی حمد اور اپنے آقا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت کی تخلیق میں اپنی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے اور اس طرح عامۃ المسلمین کو محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سائبان تلے جمع کر کے اسلام دشمنوں کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

*ماہنامہ پھول دسمبر 2006 سے لیا گیا متن

قدیر احمد at 19:49 on 8 February 2010
خوب

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے

از: الف نظامی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے

تمام کفر کی دنیا کھڑی ہے اک جانب
تُو ایک عافیہ تنہا کھڑی ہے اک جانب

میں کیا کہوں تجھے اے عافیہ تُو ناداں ہے
یہ جرم کافی ہے تیرا کہ تُو مسلماں ہے

ترا یہ جرم کہ تُو اس قدر ذہین ہے کیوں
زمیں پہ رہتے ہوئے آسماں نشین ہے کیوں

تری یہ جراتِ اظہار تیری دشمن ہے
بھلا تُو کس لیے امریکیوں سے بدظن ہے

ترے مزاج میں تلخی بھری بغاوت ہے
ترے عمل سے ہویدا تری شجاعت ہے

تجھے یہ عدل ملا ہے نہ یہ عدالت ہے
یہ اہلِ حق سے فقط کفر کی عداوت ہے

سو ظلم و جبر کی طاقت تجھے جھکا نہ سکی
صراطِ حق سے ذرا سا تجھے ہٹا نہ سکی

پہاڑ ظلم کے تجھ پر جو آہ ٹوٹے ہیں
ہر ایک آنکھ سے رہ رہ کے اشک پھوٹے ہیں

گلہ میں کیسے کروں اپنے حکمرانوں سے
نہیں ہے اٹھنے کا یہ بوجھ ان کے شانوں سے

یہ بے بصر ہیں انہیں کچھ نظر نہیں آتا
جو راہبر ہے وہی راہ پر نہیں آتا

نہ اشک آنکھ میں‌باقی نہ دل ہے سینے میں
ہے فرق کیا مرے مرنے میں اور جینے میں

یہ چند لفظ ہیں تیرے لیے مری بہنا
مجھے تو اس کے سوا اور کچھ نہیں‌ کہنا

یہ کربلا کا سفر ہے جو اب بھی جاری ہے
کہ ایک شخص یہاں لشکروں پہ بھاری ہے

(سعد اللہ شاہ)

سیرت طیبہ سے راہنمائی (اکیسویں صدی میں)

از: الف نظامی

سیرت طیبہ سے راہنمائی (اکیسویں صدی میں)
موئف: پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کوثر
قیمت: 120 روپے
ناشر: سیرت اکادمی بلوچستان، O277-A بلاک  III ، سٹیلائٹ ٹاون ، کوئٹہ
فون:442289
صوبہ بلوچستان میں علمی ، ادبی و تحقیقی حوالے سے ہمیں جو شخصیت سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی ہے۔ انہوں نے بہت سی کتب مختلف موضوعات پر لکھی ہیں۔ “سیرتِ طیبہ سے رہنمائی ، اکیسویں صدی میں” ان کے سات مقالات پر مشتمل ہے جو کتابی صورت میں شائع کئے گئے ہیں۔

کتاب کے موضوعات:
بلوچستان میں قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر
حرمین الشریفین کے سفر نامے اور بلوچستان
بلوچستان میں پاکستانی زبانوں میں تذکرہ سیرت
بلوچستان میں فارسی نعت گوئی و سیرت نگاری
اردو میں ذکرِ سیرت اور بلوچستان
ہر سو روشنی
مسلمانانِ عالم میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت

*ماہنامہ پھول دسمبر 2006 سے لیا گیا متن

قائد اعظم ، تحریک پاکستان اور صحافتی محاذ

از: الف نظامی

قائد اعظم ، تحریک پاکستان اور صحافتی محاذ
مرتب: پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کوثر
قیمت: 60 روپے

ناشر: سیرت اکادمی بلوچستان، O277-A بلاک  III ، سٹیلائٹ ٹاون ، کوئٹہ
فون:442289

قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا جادو اپنوں اور غیروں کے سر چڑھ کر بولتا رہا۔ ان کی اصول پسندی ، اصولوں پر ڈٹ جانا اور مستقبل بینی کی صلاحیت نے انہیں بر صغیر کا عظیم رہنما بنا دیا تھا۔ اس کتاب میں قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت ، تحریک پاکستان اور صحافت کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نوائے وقت سمیت دیگر اخبارات و رسائل نے مسلم لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نادر تصاویر اور اخباری تراشوں کی اشاعت نے کتاب کی افادیت میں اضافہ کردیا ہے۔
ماہنامہ پھول جنوری 2009 سے لیا گیا متن۔