اوراق
آدھا رستہ
انسان عجیب مخلوق ہے۔۔۔ سوچتا ہے۔۔۔ عمل کرتا ہے اور عمل کے عین دوران پھر سوچتا ہے اور اپنے عمل پر نظر ثانی کرتے کرتے اپنی اس سوچ پر بھی نظر ثانی کرتا ہے جس کے تحت سفر کا آغاز کیا تھا۔۔۔ اور یہ کھیل جاری رہتا ہے ، آری کے دندانوں کی طرح۔۔۔ اور انجام کار یہ سوچ در سوچ کی آری افراد کو اور قوموں کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔۔۔ جذبے سرد پڑ جاتے ہیں۔۔ سفر کی لذت ختم ہوجاتی ہے اور سفر بند ہوجاتے ہیں۔۔ قافلے پڑاو پر پڑے رہتے ہیں۔۔۔ منزل سے محروم ، بد دل مسافر ایک نئی سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور نئی بستیاں بسانے کے درپے ہوجاتے ہیں۔۔۔ گھر چھوڑ کر سفر پہ نکلے اور مسافرت میں منزلیں فراموش کرکے نئے گھر بنانے شروع کردیتے ہیں۔۔۔ کل کی سوچ کو غلط سمجھ کر انسان آج کی سوچ پر ناز کرتا ہے۔۔۔ آنے والے کل میں یہ سوچ بھی غلط ہوسکتی ہے۔ بس تذبذب کے اس مقام کو ہی آدھا راستہ کہتے ہیں۔۔۔ واپس جانا ناممکن ہے۔۔۔ آگے جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔۔۔یہی زوال ملت ہے کہ مقصد ہی بھول جائے۔۔۔ اور مقصد ہی نہ رہے تو سفر کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔۔
انسانی عقل راستوں میں رہ جاتی ہے ، منزل پر پہنچانے والی کوئی اور سوچ ہے۔۔۔ وہ دانش نورانی ہے۔۔۔ وہ علم آسمانی ہے۔۔۔ وہ فیصلہ کسی اور طرف سے آتا ہے۔۔۔ انسانی سوچ کو تذبذب سے بچانے کے لئے پیغمبر تشریف لائے۔ اور لوگوں کو بتایا کہ یہ عارضی اور فانی سوچیں ہیں۔۔۔ اصل بات خدا کی بات ہے۔۔۔ اور اصل سفر اطاعت کا سفر ہے ، جس سے منزل نصیب ہوتی ہے۔۔۔۔ ابلیس نے اطاعت نہ کی۔۔۔ اس نے غرور کیا ، تکبر کیا ، اس نے سوچا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مٹی سے بنے ہوئے آدم کو سجدہ کیا جائے ، جبکہ وہ نار سے پیدا ہوا۔۔۔ یہی سوچ کا زوال ہے۔۔۔ آدھے رستے کا مسافر ابلیس تھا۔۔۔ مقرب تھا ، معتوب ہوگیا ، رجیم ہوگیا۔۔۔ جب سوچنے کے بعد کوئی فیصلہ کرلیا جائے تو اللہ پر بھروسہ کرکے منزل پر ہی ڈیرے ڈالنا چاہئیں۔۔۔یہی کامیابی ہے۔۔۔بدنصیب ہیں وہ مسافر جو آدھے سفر کے بعد ذوقِ سفر سے محروم ہوجائیں۔۔۔ مقصد فراموش قومیں اور افراد آدھے رستے پر رک جاتے ہیں۔۔۔ بعض اوقات ہم اکثریت کے فیصلے پر سفر اختیار کرتے ہیں۔۔۔ یہ سفر بھی مشکوک ہوتا ہے۔۔۔ اکثریت متلون ہوسکتی ہے ، بے خبر ہوسکتی ہے ، بے علم ہوسکتی ہے ، غافل ہوسکتی ہے ، آرام پرست اور آرام طلب ہوسکتی ہے۔۔۔ جہاں اکثریت کاذب ہو وہاں صداقت کا سفر کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ اگر منافقین کی اکثریت کے حوالے کردیا جائے ، تو بھی فیصلہ غلط ہوگا۔۔۔ اللہ نے بیان فرمایا کہ
“اگر منافقین رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آکر اعلان کریں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو اے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں جانتا ہوں کہ تو رسول ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ منافق غلط کہتے ہیں”
یعنی جھوٹے لوگ سچ بولیں تو بھی جھوٹ ہے ، وہ کوئی صحیح فیصلہ کریں تو بھی غلط ہے۔۔۔ وہ کسی صحیح منزل کی نشان دہی کریں تو بھی نتیجہ غلط ہوگا۔۔۔ سچ جو سچے گروہ کا فیصلہ ہو۔۔۔ سچی اقلیت کاذب اکثریت سے بہت بہتر ہے۔۔۔ محض اکثریت پر مبنی سب فیصلے قابل غور ہیں۔۔۔ جب تک سچے لوگوں کی اکثریت نہیں ہوتی ، جمہوری فیصلے غلط ہیں۔۔۔ سربراہ ، امیر المومنین ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔امیر الکاذبین اور امیر المنافقین ملت پر عذاب کا باعث ہوسکتے ہیں۔۔۔جھوٹے کے مقدر میں آدھا رستہ ہے۔۔۔ جھوٹے راہی کی منزل آدھا رستہ ہے۔۔۔ صداقت کی منزلیں صادقوں کے لئے ہیں۔۔۔ بعض اوقات امیر کی صداقت قوم میں صداقت فکر پیدا کردیتی ہے۔۔۔ قائد اعظم کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ صادق تھے ۔۔۔صداقت ہی ان کی خوبی تھی۔۔۔ان کا اپنا کردار قوم میں وحدت کردار پیدا کر گیا۔۔۔لوگ ان کے حکم پر مر مٹے۔۔۔ وطن سے بے وطن ہوئے۔۔۔ مہاجرین بن گئے۔۔۔ سب کچھ لٹا کے بھی خوش بختی کا احساس رہا۔۔۔ ایک عظیم مقصد کے لئے جان اور آن کی پرواہ کئے بغیر لوگ آمادہ سفر ہوئے۔۔۔بات بہت دور تک نکل جاتی اگر قائد کچھ دیر اور زندہ رہتے۔۔۔ وحدت کا تصور دینے والا مر گیا اور قوم میں انتشار سا پیدا ہوگیا۔۔۔
قائد کی بے وقت رحلت نے سفر کی رفتار کم کر دی ۔۔۔ سفر کا رخ وہ نہ رہا۔۔۔ ان کی بنائی ہوئی صادق اکثریت ، بے مقصد ہجوم میں تبدیل ہوکر رہ گئی۔۔۔
اکثریت کو صداقت آشنا کیا جائے ، اس میں حق گوئی اور بیباکی پیدا کی جائے۔۔۔
یہ مرحلہ طے ہوجائے تو جمہوریت سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔۔۔
ورنہ بس وہی بات کہ بس آدھا سفر ۔۔۔آدھا راستہ۔۔۔ خدانخواستہ۔۔۔ انسان فطری طور پر انقلاب پسند ہے۔۔۔ اسے یکسانیت پسند نہیں۔۔۔ یہ ورائٹی چاہتا ہے۔۔۔ یہ بدلتا رہتا ہے۔۔۔ انسان لباس بدلتا ہے ، لہجے بدلتا ہے ، دوست بدلتا ہے ، جماعتیں بدلتا ہے ، پارٹیاں بدلتا ہے ، ہارس ٹریڈنگ کرتا ہے ، یہ محسن فراموشیاں کرتا ہے ، رشتے بدلتا ہے اور مقصد بھی بدل دیتا ہے۔۔۔
اس کے پاس ہر کام کا جواز ہے ۔۔۔ پرانے فیصلے کا اس کے پاس قوی جواز تھا ، آج نئے فیصلوں کا جواز ہے ، غالبا یہی انقلاب کا باعث ہے۔۔۔
آدم کو بہشت میں رہنا اس لئے بھی راس نہ آیا کہ وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا ، کوئی انقلاب نہیں تھا ، بولنے کے لئے کوئی فورم نہیں تھا ۔۔۔ انہوں نے ایک ترکیب سوچی۔۔۔ شجر ممنوعہ کا ذائقہ چکھ لیا۔۔۔ بس انقلاب آگیا۔۔۔ ہنگامہ برپا ہوگیا۔۔۔ اگر اخبار ہوتے تو شہ سرخیاں چھپ جاتیں۔۔۔بہشت ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔انقلاب کامیاب ہوگیا اور زندگی ناکام۔۔۔اللہ نے آدم کے لئے شیطان کو نکال دیا اور آدم نے شیطان کے لئے اللہ کے امر کو چھوڑ دیا۔۔۔بہشت کا سفر آدھے رستے ہی میں ختم ہوگیا۔۔۔پھر زمین کا سفر۔۔۔ زمین کے مقاصد ، عزائم اور عمل ۔۔۔ سب نامکمل۔۔۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی معراج کے علاوہ تو ابھی سب کچھ راستے میں ہی ہے۔۔۔ ابھی آدھا رستہ ہی طے ہوا ہے۔۔۔ابھی تو ملت آدم تفریق ہوئی ہے۔۔۔ یہ سفر مکمل ہوگا وحدت آدم پر۔۔۔ ستاروں کی وحدت کہکشائیں پیدا کرتی ہے ، ننھے چراغوں کی وحدت سے چراغاں پیدا ہوتے ہیں ، قطروں کی وحدت سے قلزم اور دریا کے جلوے پیدا ہوتے ہیں۔۔۔ آدھے رستے کے مسافروں کو جگایا جائے ، انہیں پھر سے آمادہ کیا جائے۔۔۔ان میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے تاکہ کارواں پھر سے رواں ہوجائے۔۔۔ منزلیں انتظار کر رہی ہیں اور مسافر ہیں کہ آدھے رستے میں سوئے پڑے ہیں۔۔۔ ذوق سفر کا پیدا کرنا قیادت کا فرض ہے۔۔۔ قائد کو چاہیے کہ وہ قوم میں بیداری کی روح پھونک دے۔۔۔ ذوق سفر عطائے رحمانی ہے۔۔۔ رحمت حق کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے کہ اے مہربان اللہ ، دے ہمیں کوئی حدی خواں جو زندگی پیدا کردے اس قوم میں۔۔۔ مطلب پرستی جمود پیدا کر رہی ہے ، وطن پرستی تحریک پیدا کردے گی۔۔۔ یہ قوم ۔۔۔ خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
غریبوں کو نان نفقہ کے مسائل اور مراحل سے آزاد کریا جائے۔ ان کی زندگی میں امید کی شمع روشن ہونی چاہئے۔۔۔ انہیں مایوسی کی تاریکی سے نکالنا چاہئے۔۔۔ تاکہ وہ بھی وطن پرستی کے عظیم مقصد اور سفر میں شامل ہوں۔۔۔ امیروں سے پیسے کی محبت نکال لی جائے۔۔۔ انہیں مال کی نمائش کا موقع نہ دیا جائے۔۔۔ ان کی شادیوں کو اسلامی رنگ میں ڈھالا جائے۔۔۔ انہیں سادہ زندگی کا شعور دیا جائے تاکہ وہ بیچارے بھی حصول منزل ملت کے عمل میں شریک ہوسکیں۔۔۔ ورنہ آدھے راستے کی بدقسمتی سے بچنا مشکل ہوگا۔۔۔ یہ سب کا سفر ہے سب کے لئے ، یہ سب کا مقصد ہے سب کے لئے ۔۔۔ غور کیا جائے۔۔۔ اللہ آسانیاں پیدا کردے گا۔۔۔ جس مقصد کے لئے یہ ملک بنایا تھا۔۔۔ یاد تو ہے ۔۔۔ اگر یاد ہے تو حاصل کرنے میں کیا دیر ہے۔۔۔
کیا اب اکثریت سے پوچھا جائے گا کہ اسلام کیا ہوتا ہے ۔۔۔ اسے کیسے حقیقی معنوں میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔۔۔
یہ بات خدا سے پوچھی جائے ،
قرآن سے معلوم کیا جائے ،
اللہ کے رسول کے فرامین سے روشنی حاصل کی جائے۔۔۔
گردش لیل و نہار پر نگاہ رکھنے والے بیدار روح انسانوں سے رجوع کیا جائے ،
وحدت عمل اور وحدت افکار کا پھر سے پیدا ہونا مشکل نہیں ہے۔۔۔صاحبان اقتدار صادق ہوجائیں ، ہر طرف صداقت ہی صداقت ہوجائے گی۔۔۔ شکر ہے کہ بہت کچھ ہورہا ہے لیکن ابھی اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔۔۔ قافلہ آدھے رستے میں تھک کر سستا رہا ہے۔۔۔ جاگو اور جگاو۔۔۔ وقت انتظار نہیں کرتا۔۔۔ مواقع اپنے آپ کو دہراتے نہیں۔۔۔ مرتبے اور آسائشیں ملتی ہیں کہ اپنے آپ کو خوش نصیب بنایا جائے۔۔۔ خوش نصیب بننے والا سب کو خوش نصیبی عطا کرئے۔۔۔ قافلہ بددل ہوگیا ہے۔۔۔ اس کی تکالیف کا ازالہ کیا جائے ، اسے گلے اور تقاضوں سے نجات دی جائے۔۔۔ یہ قوم جاگ گئی تو قوموں کی امامت کا فریضہ اسی کو سونپا جائے گا۔۔۔ حال کی خوشحالی میں مست ہوکر مستقبل کے فرائض فراموش نہ ہوں۔۔۔ وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جب اقبال کے خواب کی تعبیر میسر ہو۔۔۔ قائد اعظم کی محنت کا صلہ حاصل ہو۔۔۔ قوم کے لئے شہید ہونے والوں کی روحوں کو قرار نصیب ہو۔۔۔ ہم منزل فراموش نہ ہوں تو آنے والی نسلیں ہمیں عزت سے یاد کریں گی۔۔۔اپنی لاڈلی اولاد کے لئے پیسہ جمع کرنا ہی مقصد نہیں ہے ۔۔۔ اگر اولاد نے مفت حاصل ہونے والا مال گناہ میں لگایا تو اس گناہ کی سزا ، پیسہ مہیا کرنے والوں کو بھی ملےگی۔۔۔ اگر اولاد کو تصور پاکستان سے متعارف نہ کرایا گیا ، شعور عظمت اسلام کی تعلیم نہ دی گئی تو خدا نہ کرے ہمارے لئے “آدھے رستے کے مسافروں” کا طعنہ ہوگا۔۔۔ خدا ہمیں اس عذاب سے بچائے۔۔۔ ہم عظیم قوم ہیں۔۔۔ ہمیں عظیم تر ہونا ہوگا۔۔۔ یہ ملک خدا کا ہے ، خدا کے رسول کا ہے ، انہی کی منشا کے مطابق چلنا چاہئے۔۔۔
حرف حرف حقیقت از واصف علی واصف سے لیا گیا
تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
سرور سروراں فخر کون و مکاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
تیری چوکھٹ ہے بوسہ گہِ قدسیاں تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
جو زمانے میں پامال و بدحال تھے ان کو بخشے ہیں تو نے نئے ولولے
تجھ سے روشن ہوا بخت تیرہ شباں تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
حد روح الامینی سے بھی ماوراء تیری محشر خرامی ہے معجز نما
اے گلستان وحدت کے سرو رواں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
تیرا طرز تکلم ہے موج صبا تیرے الفاظ پر نورو نکہت فدا
نطق سے تیرے ناطق ہے رب جہاں تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
زینت افزائے برج ”دنی“ہے توئی مسند آرائے عرش علی ہے توئی
ہے توئی بزم قوسین کا رازداں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
تیری رحمت عداوت فراموش ہے تو عطا پاش ہے تو خطا پوش ہے
دشمن جاں کو بھی تو نے بخشی اماں تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
وہ جسے تیرا آئین مرغوب ہے کب وہ تہذیب حاضر سے مرعوب ہے
تیری سیرت تمدن کی روح رواں تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
قائد انس وجاں خسرو خشک و تر ، رہبران امم تیرے دریوزہ گر
تیرا ہر نقش پا نورِدیدہ وراں ، تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
میرے الفاظ درماندہ و بے نوامیرا سرمایہ فکر و فن نارسا
مجھ ساعاجز کہاں تیری مدحت کہاں، تجھ سا کوئی کہاں ، تجھ سا کوئی کہاں
از سید شاکر القادری
تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
اے رسول امیں، خاتم المرسلیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
ہے عقیدہ اپنا بصدق و یقیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
اے براہیمی و ہاشمی خوش لقب، اے تو عالی نسب، اے تو والا حسب
دودمانِ قریشی کے دُرِثمین، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
دست قدرت نے ایسا بنایا تجھے، جملہ اوصاف سے خود سجایا تجھے
اے ازل کے حسیں، اے ابد کے حسیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
بزم کونین پہلے سجائی گئی، پھر تری ذات منظر پر لائی گئی
سید االاولیں، سید الآخریں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
تیرا سکہ رواں کل جہاں میں ہوا، اِس زمیں میں ہوا، آسماں میں ہوا
کیا عرب کیا عجم، سب ہیں زیرِ نگیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
تیرے انداز میں وسعتیں فرش کی، تیری پرواز میں رفعتیں عرش کی
تیرے انفاس میں خلد کی یاسمیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
“سدرۃ ُالمنتہیٰ” رہگزر میں تری ، “قابَ قوسین” گردِ سفر میں تری
تو ہے حق کے قریں، حق ہے تیرے قریں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
کہکشاں ضو ترے سرمدی تاج کی، زلف ِتاباں حسیں رات معراج کی
“لیلۃُ القدر “تیری منور جبیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
مصطفےٰ مجتبےٰ، تیری مدح وثنا، میرے بس میں ، دسترس میں نہیں
دل کو ہمت نہیں ، لب کو یارا نہیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
کوئی بتلائے کیسے سراپا لکھوں، کوئی ہے ! وہ کہ میں جس کو تجھ سا کہوں
توبہ توبہ! نہیں کوئی تجھ سا نہیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
چار یاروں کی شان جلی ہے بھلی، ہیں یہ صدیق، فاروق، عثمان ، علی
شاہدِ عدل ہیں یہ ترے جانشیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
اے سراپا نفیس انفسِ دوجہاں، سرورِ دلبراں دلبرِ عاشقاں
ڈھونڈتی ہے تجھے میری جانِ حزیں، تجھ سا کوئی نہیں ، تجھ سا کوئی نہیں
از نفیس الحسینی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کی یاد میں تعزیتی اجلاس
ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کی مذہبی، ملی و قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اُن کی علمی، تحقیقی اور دینی خدمات کو بھی ملت اسلامیہ خراج تحسین پیش کرتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار تحریک منہا ج القرآن کے سینئر نائب ناظم اعلی شیخ زاہد فیاض نے سنٹرل ورکنگ کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس کی صدارت مرکزی امیر تحریک فیض الرحمان درانی نے کی۔ سینئر نائب ناظم اعلی شیخ زاہد فیاض نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کا ہر فرد ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کے پسماندگان، جامعہ نعیمیہ کے استاتذہ و طلباء اور بالخصوص ان کے جانشین پروفیسر راغب نعیمی کے دکھ اورغم میں برابر شریک ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر نائب ناظم اعلی نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔
تحریک منہاج القرآن کے پاکستان سمیت 90سے زائد ممالک میں قائم اسلامک سنٹرز کے تمام مراکز، سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز میں قرآن خوانی بھی کی جائے گی اور شہید کی وطن عزیز کی تعمیر، ترقی، استحکام و ملت اسلامیہ کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام اندرون ملک و بیرون ممالک تعزیتی ریفرنسز بھی منعقد کرے جائیں گئے۔
اجلاس میں پرفیسر راغب نعیمی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے شیخ زاہد فیاض نے کہا کہ انکے والد امن کے داعی تھے اور اتحاد امہ کے لیے انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہا مولانا شہید کے جانشین، عقیدت مند اور چاہنے والے ان کے مشن کو جاری رکھیں۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اہم مذہبی، سیاسی اورسماجی شخصیات کی سیکورٹی اور حفاظت کے لیے فول پروف انتظام کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ناخوش گوار واقع پیش نہ آئے۔
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہید کے لیے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی امیر فیض الرحمان درانی نے خصوصی دعا کروائی۔

