اوراق

الف نظامی لِکھدا اے۔۔۔

عالم اسلام کے اولین نعت خوان

از: الف نظامی

عالم اسلام کے اولین نعت خوان
راجا رشید محمود

اسلام کی بنیاد کلمہ توحید و رسالت ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
ہر مسلمان اللہ کریم کی وحدانیت اور اللہ تعالی کے آخری رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت و خاتمیت پر ایمان رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا کی سب شخصیتوں سے زیادہ محبت میرے ساتھ نہیں رکھتا وہ مومن نہیں۔ یعنی ایمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت کے ساتھ مشروط ہے اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف و ثنا کی جائے اور دوسرا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکام پر عمل کیا جائے۔
قرآن مجید میں جگہ جگہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف ملتی ہے۔ اس لئے بہت سے لوگ اسے نعت کا پہلا مجموعہ قرار دیتے ہیں لیکن اگر نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شعری مدح کو کہا جائے تو بھی عالم اسلام کا کوئی خطہ ، کوئی ملک اور کوئی زبان ایسی نہیں جس میں شعر کی زبان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف نہ کی گئی ہو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس دنیا مین ظہور فرمانے سے کوئی ایک ہزار سال پہلے یمن کے بادشاہ تبع اول حمیری نے سب سے پہلے نعت کے اشعار کہے۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بزرگوں میں سے حضرت کعب بن لوی ( حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت سے پانچ سو ساٹھ سال قبل ) کے نعتیہ اشعار ملتے ہیں۔
آپ کے دنیا میں تشریف لانے پر حضرت عبد المطلب نے اشعار کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سپرد کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی تعریف شعروں میں کی۔ اسی طرح خواتین میں پہلی نعت گو سیدہ آمنہ ہیں۔ ورقہ بن نوفل نے پہلا باقاعدہ نعتیہ قصیدہ کہا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے پر بنو نجار کی بچیوں نےسب سے پہلے نعتیہ اشعار پڑھے۔ سب سے پہلا غیر مسلم نعت گو اعبثی میمون بن قیس تھا۔ حضرت حسان بن ثابت ، حضرت کعب بن زہیر ، حضرت کعب بن مالک ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنھم ) عہد نبوی کے مشہور نعت گو صحابی تھے۔

حضرت ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سب صحابہ سے زیادہ نعتیہ قصیدے کہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی منظوم مدح کے “نعت” کا لفظ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے استعمال کیا۔

شاعر صحابہ کرام میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے مدح رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اشعار نہ کہے ہوں۔ حافظ ابن البر رضی اللہ تعالی عنہ نے 120 مداح گو صحابہ کے نام اور حافظ ابن سید الناس رحمۃ اللہ علیہ نے 200 نعت گو صحابہ کے نام لکھے ہیں۔
علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ نے چار ضخیم جلدوں میں عربی نعتوں کا انتخاب کیا تھا جن میں 34 صحابہ کرام کے 461 اشعار ہیں۔ عربی نعت کے اس انتخاب میں صحابہ کے علاوہ 24635 اشعار بعد کے شعراء ادب کے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی ( فیصل آباد ) نے بر صضیر پاک و ہند کے عربی نعت گو شاعروں  پر پی ایچ ڈی کے لئے مقالہ لکھا جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور لاہور سے شائع ہوا۔ ممالک عرب میں دوسری دنیا کی طرح اب تک نعت گوئی جاری ہے۔

عالم اسلام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت کا سلسلہ 14 سو سال سے جاری ہے۔ موجود دور چونکہ مسلمانوں پر مصائب و ابتلا کی صورت لایا ہے اس لئے مسلمانوں کے حساس طبقے جسے شعرا کہا جتا ہے ، پہلے سے کہیں زیادہ نعت کہنا شروع کر دی ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہ عام طور ہر یہودیوں  اور عیسائیوں کے زیر اثر ہیں۔ امریکہ نے ان کے حواس سے لے کر ان کے ملکی وسائل تک پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اس لئے ہر ملک کے مسلمان عوام بے چینی  ، بے یقینی اور پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایسے میں شاعروں نے اپنے آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف و ثنا میں پناہ ڈھونڈی ہے اور ملت کی اجتماعی صورت حال کی فریاد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں کر رہے ہیں۔
ایران میں ضیا الدین دھشیری اور دوسرے محققین اور ادبا نے نعت گوئی اور نعت گو شاعروں کے تذکروں پر مشتمل وقیع کتابیں لکھی ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں نعت کے مختلف گوشوں پر کام ہو رہا ہے۔ مجموعہ ہائے نعت چھپ رہے ہیں ، مختلف موضوعات پر تحقیق ہورہی ہے ، محافل نعت کا انعقاد ہو رہا ہے ، نعتیہ مشاعرے جاری ہیں ، نعت خوانی کے مقابلے کرائے جا رہے ہیں۔ مختلف حوالوں سے نعت کے انتخاب شائع ہو رہے ہیں۔ نعت پر جریدے اور کتابی سلسلے جاری ہیں۔
عہد موجود نعت کا عہد ہے۔ آج دنیا کی ہر زبان میں نعت کہی جارہی ہے لیکن یہ سعادت مملکت خداداد پاکستان کو حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ نعت پاکستان میں کہی جا رہی ہے اور سب سے زبانوں سے زیادہ نعت اردو زبان میں کہی گئی ہے۔
بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے آقا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے امتیوں کے لئے جو علیحدہ مملکت حاصل کی تھی اس کے باشندے اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدحت و ستائش میں سبقت لے جانے کے لئے کوشاں ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ عالم اسلام کا سب سے حساس طبقہ شعرا اپنے رب کریم کی حمد اور اپنے آقا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نعت کی تخلیق میں اپنی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں گے اور اس طرح عامۃ المسلمین کو محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سائبان تلے جمع کر کے اسلام دشمنوں کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

*ماہنامہ پھول دسمبر 2006 سے لیا گیا متن

قدیر احمد at 19:49 on 8 فروری 2010
خوب

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے

از: الف نظامی

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے

تمام کفر کی دنیا کھڑی ہے اک جانب
تُو ایک عافیہ تنہا کھڑی ہے اک جانب

میں کیا کہوں تجھے اے عافیہ تُو ناداں ہے
یہ جرم کافی ہے تیرا کہ تُو مسلماں ہے

ترا یہ جرم کہ تُو اس قدر ذہین ہے کیوں
زمیں پہ رہتے ہوئے آسماں نشین ہے کیوں

تری یہ جراتِ اظہار تیری دشمن ہے
بھلا تُو کس لیے امریکیوں سے بدظن ہے

ترے مزاج میں تلخی بھری بغاوت ہے
ترے عمل سے ہویدا تری شجاعت ہے

تجھے یہ عدل ملا ہے نہ یہ عدالت ہے
یہ اہلِ حق سے فقط کفر کی عداوت ہے

سو ظلم و جبر کی طاقت تجھے جھکا نہ سکی
صراطِ حق سے ذرا سا تجھے ہٹا نہ سکی

پہاڑ ظلم کے تجھ پر جو آہ ٹوٹے ہیں
ہر ایک آنکھ سے رہ رہ کے اشک پھوٹے ہیں

گلہ میں کیسے کروں اپنے حکمرانوں سے
نہیں ہے اٹھنے کا یہ بوجھ ان کے شانوں سے

یہ بے بصر ہیں انہیں کچھ نظر نہیں آتا
جو راہبر ہے وہی راہ پر نہیں آتا

نہ اشک آنکھ میں‌باقی نہ دل ہے سینے میں
ہے فرق کیا مرے مرنے میں اور جینے میں

یہ چند لفظ ہیں تیرے لیے مری بہنا
مجھے تو اس کے سوا اور کچھ نہیں‌ کہنا

یہ کربلا کا سفر ہے جو اب بھی جاری ہے
کہ ایک شخص یہاں لشکروں پہ بھاری ہے

(سعد اللہ شاہ)

سیرت طیبہ سے راہنمائی (اکیسویں صدی میں)

از: الف نظامی

سیرت طیبہ سے راہنمائی (اکیسویں صدی میں)
موئف: پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کوثر
قیمت: 120 روپے
ناشر: سیرت اکادمی بلوچستان، O277-A بلاک  III ، سٹیلائٹ ٹاون ، کوئٹہ
فون:442289
صوبہ بلوچستان میں علمی ، ادبی و تحقیقی حوالے سے ہمیں جو شخصیت سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی ہے۔ انہوں نے بہت سی کتب مختلف موضوعات پر لکھی ہیں۔ “سیرتِ طیبہ سے رہنمائی ، اکیسویں صدی میں” ان کے سات مقالات پر مشتمل ہے جو کتابی صورت میں شائع کئے گئے ہیں۔

کتاب کے موضوعات:
بلوچستان میں قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر
حرمین الشریفین کے سفر نامے اور بلوچستان
بلوچستان میں پاکستانی زبانوں میں تذکرہ سیرت
بلوچستان میں فارسی نعت گوئی و سیرت نگاری
اردو میں ذکرِ سیرت اور بلوچستان
ہر سو روشنی
مسلمانانِ عالم میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت

*ماہنامہ پھول دسمبر 2006 سے لیا گیا متن

قائد اعظم ، تحریک پاکستان اور صحافتی محاذ

از: الف نظامی

قائد اعظم ، تحریک پاکستان اور صحافتی محاذ
مرتب: پروفیسر ڈاکٹر انعام الحق کوثر
قیمت: 60 روپے

ناشر: سیرت اکادمی بلوچستان، O277-A بلاک  III ، سٹیلائٹ ٹاون ، کوئٹہ
فون:442289

قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا جادو اپنوں اور غیروں کے سر چڑھ کر بولتا رہا۔ ان کی اصول پسندی ، اصولوں پر ڈٹ جانا اور مستقبل بینی کی صلاحیت نے انہیں بر صغیر کا عظیم رہنما بنا دیا تھا۔ اس کتاب میں قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت ، تحریک پاکستان اور صحافت کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ نوائے وقت سمیت دیگر اخبارات و رسائل نے مسلم لیگ کا پیغام گھر گھر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نادر تصاویر اور اخباری تراشوں کی اشاعت نے کتاب کی افادیت میں اضافہ کردیا ہے۔
ماہنامہ پھول جنوری 2009 سے لیا گیا متن۔

حضرت قائد اعظم سے ایک یادگار ملاقات

از: الف نظامی

حضرت قائد اعظم سے ایک یادگار ملاقات
از علامہ محمد یوسف جبریل

دہلی کی ایک سعادت مند صبح تھی۔ میں نیند سے بیدار ہوا۔ معا میرے دل میں خیال آیا کہ قائد اعظم دہلی میں ہیں ، کیوں نہ ان کی زیارت کی جائے۔ اس وقت نہ تو مجھے اپنی کم مائیگی کا خیال تھا اور نہ ہی حضرت قائد اعظم کی عدیم الفرصتی کا احساس ۔ اور شکر ہے کہ نہ تھا۔ بعض اوقات جہالت بھی کام آجاتی ہے۔ قائد اعظم کی ملاقات کے معاملے میں میری دلیری کا سبب وہ تصور تھا جو میں نے قائد اعظم کے متعلق قائم کر رکھا تھا۔ میرا جہاں قیام تھا وہاں کثیر تعداد میں فوجی مختلف یونٹوں اور کئی ایک ممالک سے وطن پلٹ کر عارضی طور پر سکونت پذیر تھے۔ میں نے قائد اعظم سے ملاقات کا نام ہی لیا تھا کہ کئی ایک بول پڑے۔ “ارے بھئی ! ہم بھی تو یہی سوچ رہے تھے”

اور پھر ملاقات کی تیاری کا پروگرام بن گیا۔ ہم کوئی پچیس کے لگ بھگ تھے۔ بعض نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ اب ہم میں سے کسی کو قائد اعظم کی مصروفیات کا علم نہیں تھا مگر سب قائد اعظم کی ملاقات کی خوشی میں مگن جا رہے تھے۔ اورنگ زیب روڈ پر قائد اعظم کی کوٹھی کے باہر پہنچے تو دوسروں کو باہر کھڑا کر کے میں اندر گیا۔

دروازے پر ایک پٹھان چوکیدار بیٹھا تھا۔ اس سے استفسار پر معلوم ہوا کہ قائد اعظم آج کل سخت مصروف ہیں حتی کہ نواب زادہ لیاقت علی خان کو بھی رسائی حاصل نہیں۔ قائد اعظم تین چار بجے رات گئے تک کام کرتے ہیں لہذا ملاقات کا کوئی جواز نہیں۔ یہ سن کر میرے پروں پر پانی پڑ گیا۔

آج عرصہ 60 برس گذر چکا ہے اس بات کو ، اس وقت کی بہت کم باتیں یاد ہیں ، مگر وہ حالت جو اس وقت میرے دل کی ہوئی ، ابھی تک میرے دل پر نقش ہے۔ لیکن جیسا کہ معاملے کا تقاضا تھا ، بجائے یہ کہ میں چپ چاپ اپنی تقدیر پر شاکر ہو کر واپس چلا جاتا اور اپنے ساتھیوں کو یہ خبر جانکاہ سنانے کا موجب بنتا۔ میں نے تقاضا شروع کردیا اور جتنی مجھ سے ہوسکی میں نے اپنی ملاقات کے مقصد کی اہمیت کی جتانے کی کوشش کی بلکہ ضد پر اتر آیا۔ چوکیدار نے ، اگر زندہ ہے تو اللہ اسے خوش رکھے ، کسی اکھڑ پن کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اس کا رویہ بھی ہمدردانہ تھا۔ آخر کار اس نے مجھے کہا کہ اپنا نام اور پتہ مجھے لکھ کر دے دو میں کوشش کروں گا۔ اب میرے پاس نہ کاغذ تھا نہ پنسل۔ چوکیدار اپنی جیبوں کی تلاشی لے رہا تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ خود قائد اعظم اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ محترمہ فاطمہ جناح ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ قائد اعظم ہال کو عبور کر کے ناشتہ کرنے جا رہے تھے ۔ محترمہ فاطمہ جناح ان کے پیچھے تھیں۔

جب دروازے کے سامنے سے گذرے تو مجھ پر نظر پڑ گئی۔ میری نظر بھی ان پر پڑی اور میں بھی سیدھا منہ ان کی طرف کر کے خاموش کھڑا ہوگیا۔ وہ منظر مجھے کبھی نہیں بھولے گا جب میں نے قائد اعظم کو یوں کھڑے دیکھا۔ میں کماحقہ اس حقیقت کو بیان کرنے سے قاصر ہوں میرے دل میں جو کیفیت ہے وہ دل میں ہی ہے زبان پر نہیں آسکتی۔

مگر ضمنا یہ وہ تصویر تھی جو حضرت قائد اعظم کی میرے سامنے ابھری وہ مجسم زندگی کی تصویر تھی۔ کھڑا قد ، چھریرا بدن ، باریک اور تیکھے نقوش ، سیدھی گردن ، چوڑا کتابی ماتھا اور کافی بڑا مگر سانچے میں ڈھلا ہوا ، تھوڑا سا اوپر کو اٹھا ہوا اور پیچھے کی طرف جھکا ہوا سر ، دو بادامی کالی اور نہایت پرکشش اور عقابی آنکھیں چمک لئے ، متجسس ، سخت پر اعتماد دور رس آنکھیں ، چہرے اور ہونٹوں کے ایک نیم باطنی نیم ظاہری تبسم میں شریک آنکھوں سے پھوٹتی ہوئی دل آویز لہریں ، بھینچے ہوئے مگر متبسم ہونٹ ، پیچھے کی طرف کنگھی کئے ہوئے بال ، طویل بازو ، پتلے خوبصورت مگر مضبوط ہاتھ یا بالجملہ ایک دلنواز شخصیت ، ایک خاموش طبیعت مگر تڑپنے کو آمادہ ،ایک پنہاں بجلی مگر کڑکنے کو تیار ، ایک گہری سوچ مگر بے حد عمیق بے حد دور رس ۔ سخت حساس مگر قابل اعتماد دوست ، ایک باریک بین دقت طلب مگر ایک دردمند رفیق اور غمگسار ساتھی ، مرد میدان اور بطل جلیل ، انسانیت پسند جمہوریت نواز۔ الغرض ایک شخصیت ، یگانہ روزگار شخصیت عطائے قدرت سے میرے سامنے موجود اور میں دریائے حیرت میں غوطہ زن۔

قائد اعظم میرے سامنے کسی نفسیاتی تجزئیے کا موقع فراہم کرنے کی غرض سے نہیں کھڑے تھے ، وہ تو محض اتفاق سے ان کا ادھر گزر ہوا اور مجھے دیکھ کر ٹھہر گئے۔ ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو “اسے محض میری محبت اور جوش عقیدت کھینچ لایا ہے”

“اس کو آنے دو”

چوکیدار سے قائد اعظم نے کہا اور میرا سر فرط مسرت سے آسمان سے جا لگا اور میرا دل احسان مندی کے بوجھ تلے دب گیا۔ میں قائد اعظم کی طرف بڑھا تو انہوں نے مصافحہ کے لئے آگے ہاتھ بڑھایا۔ میں نے مصافحہ کیا۔ قائد اعظم نے کہا

“مجھے صرف پندرہ منٹ کی اجازت دیجیے میں ناشتہ کرلوں آپ اس بیٹھک میں تشریف رکھیں”

یہ سب کچھ انہوں نے انگریزی کے ایک انتہائی دلپذیر جملے میں کہا۔ میرے ساتھی جو بڑی بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے جب مجھے شرف قبولیت بخشا گیا تو سب شدت شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور قائد اعظم کی محبت میں کشاں کشاں اندر آ کر میرے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ میں نے جب قائد اعظم سے کہا یہ سب میرے ساتھی ہیں اور سب آپ کو ملنے آئے ہیں تو قائد اعظم نے نہایت خندہ پیشانی سے کہا

“آپ سب لوگ بیٹھک میں تشریف رکھیں میں ابھی حاضر ہوا”

یہ کہہ کر آپ کھانے کے کمرے کی طرف چلے گئے۔ محترمہ فاطمہ جناح آپ کے ساتھ تھیں۔

ہم لوگ بیٹھک میں بیٹھ گئے۔ ہم سب اس سعادت پر مسرور تھے۔ لڑکے آہستہ آہستہ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد قائد اعظم تشریف لائے اور ایک صوفے پر بیٹھ گئے۔

میں نے کھڑے ہو کر انگریزی کے چند جچے تلے جملوں میں قائد اعظم کی خدمات کا اعتراف کیا ۔ آپ کے احسان کا شکریہ ادا کیا۔ آپ پر قوم کے اعتماد کا اظہار کیا اور آپ کو یقین دلایا کہ قوم آپ کی احسان مند ہے اور اس کٹھن مرحلہ پر ہر گز پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ ہم سب آپ کے تابع فرمان ہیں۔ ہمیں آپ کی فراست پر کامل اعتماد ہے اور آپ کے اخلاص پر ہمیں مکمل یقین ہے۔ آپ کا یہ کارنامہ تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور مسلمانوں کی نسلیں آپ کی احسان مند رہیں گی۔ اللہ تعالی آپ کو اپنے مقصد میں کامیابی عطا فرمائے اور ہمیں آپ کی اطاعت کی توفیق بخشے۔ قائد اعظم میری باتوں سے بے حد مسرور نظر آرہے تھے ۔ آپ کا چہرہ ایک آئینے کی مانند تھا جس میں دل کی ہر کیفیت منعکس ہوجاتی تھی۔ میں اپنی بات ختم کر کے بیٹھ گیا تو قائد اعظم نے اپنے پاس سے ہم سب کو ایک ایک نہایت نفیس سگریٹ پیش کیا۔ یہ کسی خاص ساخت کا سگریٹ تھا۔ طول میں دوسرے سگریٹوں سے زیادہ تھا اور نہایت ہی خوش ذائقہ۔ پھر آپ نے بڑی بے تکلفی سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ آپ بالکل آہستہ آہستہ اور نرم لہجے میں بات کر رہے تھے ۔ ان باتوں کو اس گرج دار تقریر سے ، جو آپ سٹیج پر کرتے تھے ، کوئی مشابہت نہیں تھی تاہم لہجے میں اتنی شیرینی ، بات میں ایسا ٹھہراو اور زبان پر ایسی قدرت تھی کہ معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے منہ سے موتی جھڑ رہے ہیں۔ آپ نے بالجملہ ہم سے چار باتیں کیں گویا کہ ایک طویل داستان کا منطقی عطر تھیں۔ میں نے خیالات کی اتنی صفائی ، زبان کی اتنی سادگی اور سلاست اور ایسا معجزانہ اختصار کہیں نہیں دیکھا اور اس پر قائد اعظم کی شخصیت مستزاد۔

آپ نے فرمایا:

“میں نے بیس برس تک کانگریس کی خدمت کی مگر ان سے اس وقت تک الگ نہ ہوا جب تک مجھے یقین نہیں ہوگیا کہ اگر اکھنڈ ہندوستان بن گیا تو مسلمانوں کا اس ملک میں کوئی مستقبل نہیں ۔ مجھ پر مسلمانوں نے اعتماد کیا ہے میں ان کو کبھی شرمسار نہیں کروں گا”

قائد اعظم کے الفاظ تھے

I will not let them down

“میں نے تمہیں آزادی کے دروازے پر لا کھڑا کیا۔ اب آگے تمہارا اختیار ہے۔ اسے چاہے آباد کرو ، چاہے برباد کردو۔ میری قوم میں کثرت سے غدار اور پٹھو ہیں۔ میرے پاس کوئی کانسٹریشن کیمپ نہیں کہ میں ان کو بند کر دوں۔ میری ساری طاقت تم ہو۔ اگر تم میرے ساتھ ہو تو میں طاقت ور ہوں۔

مجھے آج بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قائد اعظم میرے سامنے بیٹھ کر یہ باتیں کر رہے ہیں۔ یہ باتیں ختم کرنے کے بعد قائد اعظم نے چاروں طرف ہلکی سی نظر گھما کر دیکھا۔ اکثر لڑکے فوجی وردی میں ملبوس تھے۔ قائد اعظم نے فردا فردا ہر ایک سے یونٹ پوچھی۔ محفل میں ایک بنگالی بھی تھا۔ جب قائد اعظم نے اس سے استفسار کیا تو اس نے اچھے خاصے جوشیلے انداز میں کہا

“جناب! ہم لوگ بندوق بھی چلا سکتا ہے”

میں نے دیکھا کہ حضرت قائد اعظم کے چہرے پر سوچ کے آثار پیدا ہوگئے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ قائد اعظم نے کیا لفظ کہے۔ البتہ ان کا مفہوم یہ تھا کہ سخت ضرورت کے بغیر ہم کبھی تشدد پر نہیں اتریں گے۔ قائد اعظم کے لفظ میں دماغ میں اس لئے نہ رکھ سکا کہ ہمارے بنگالی بھائی کا جملہ کچھ ایسا تھا کہ میری ساری توجہ اس طرف ہوگئی اور قائد اعظم کے چہرے پر نظر پڑی تو ان کی سوچ میں کھو سا گیا اور ان کے لفظوں پر دھیان نہ رہا۔

ہماری دلی مراد بر آئی ۔ ہم نے قائد اعظم کو دیکھ لیا تھا ۔ ان کی باتیں سن لی تھیں۔ وہاں اب ہم نے زیادہ دیر بیٹھنا مناسب نہ سمجھا۔ اجازت لی اور واپس آگئے۔

علامہ یوسف جبریل کے خیال میں پاکستان “پاکستان کا مطلب کیا–لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ” کے نعرے کے ساتھ بنایا گیا تھا۔ یہ خدائی حکمت و منشائے الہی کا مظہر ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ یہ ملک دراصل دنیا کو ایٹمی جہنم کی بربادی سے بچانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ علامہ صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو اپنی کتاب

Quran predict the atomic hell and averts it

قرآن ایٹمی جہنم کی تصویر پیش کرتا اور اس سے بچاتا ہے

بھیجی تھی ۔ اس زمانے میں وفاقی وزیر تعلیم عبد الحفیظ پیرزادہ اور بھٹو کے ملڑی سیکرٹری بریگیڈیر امتیاز علی تھے۔ زیڈ اے بھٹو کی طرف سے علامہ صاحب کو خط موصول ہوا کہ وہ فیروز سنز لاہور سے اس کتاب کی اشاعت کے لئے رابطہ کریں وہ اسے چھاپنے پر رضا مند ہیں۔ علامہ صاحب رابطہ نہ کر سکے اور یوں یہ کتاب شائع نہ ہو سکی۔

بحوالہ : علامہ محمد یوسف جبریل — حیات و خدمات از ڈاکٹر تصدق حسین راجا

افتخار اجمل بھوپال at 20:28 on 2 فروری 2010
آپ کا شکریہ ۔ ایسی تحریر پڑھوا دی جو شاید پڑھے بغیر ہی مر جاتے
خرم at 21:14 on 2 فروری 2010
ماشاء اللہ۔ اجمل انکل نے درست فرمایا۔ لاجواب تحریر ہے جو اور کسی ذریعہ سے پڑھنا شائد ممکن نہ ہوتا۔ ...